سندھ میں سیلابی ریلے سے سیکڑوں دیہات تباہ  سندھ میں گڑھی خیرو سے آنے والا سیلابی ریلا سجاول جونیجو اور شہداد کوٹ کے 5 سو دیہات کو تباہ کرتا ہوا کچی پل سے ایف پی حفاظتی بند کی جانب بڑھ رہا ہے۔ شہداد کوٹ، قبو سعید خان، میروخان اور سجاول جونیجو شہروں کو خالی کرالیا گیا ہے۔ سجاول جونیجو، گڑھی خیرو اور شہداد کوٹ گڑھی خیرو کی سڑکوں پر مجموعی طور پر10 مقامات پر کٹ لگاکر سیلابی پانی کا رخ قبو سعیدخان کی جانب موڑدیا گیا ہے جس سے فوری طور پر شہداد کوٹ، میرو خان اور سجاول جونیجو کو درپیش خطرہ کم ہوگیا ہے تاہم سیلاب کے پیش نظر مقامی لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ سیلابی ریلاکچی پل تک پہنچ چکا ہے جس سے مزید تین سو دیہات زیرآب اورتیار فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ ٹھٹھہ سے گزرنے والے سیلابی ریلے سے سورجانی بند کے قریب تین دیہات اور فصلیں زیر آب آگئیں۔ سیلابی ریلے نے سورجانی، منارکی اور سونڈاہلایا بند کے حساس مقامات پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ خیرپور میں حفاظتی بندوں پر سیلابی ریلوں کا دباؤ برقرار ہے۔ نواب شاہ کے قریب دریائے سندھ میں مڈ منگلی، میکاروڈھورو، بچل پور، قاضی احمد اور دولت پور کے حفاظتی بندوں سے بعض مقامات پر پانی کا رساؤ جاری ہے۔ پاک فوج کی لاکھوں افراد کو خوراک اورطبی سہولیات کی فراہمی جاری،آئی ایس پی آر  سیلاب متاثرین کیلئے پاک فوج کی جانب سے مختلف علاقوں میں لاکھوں افراد کو خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے نصیر آباد میں چار ریلیف کیمپ قائم کردیے ہیں جہاں متاثرین کو تیار کھانا اور طبی امداد دی جارہی ہے۔ پاک فوج نے اب تک نصیر آباد کے متاثرین کیلئے 180 ٹن راشن، 58 سو ٹینٹ، 20 لاکھ روپے کی ادویات اور 26 ٹن پینے کا پانی فراہم کیا ہے۔ سکھر،کشمور، جیکب آباد اور شکارپور میں متاثرین سیلاب کیلئے کراچی سے 536 ٹن ریلیف اشیا بھجوائی گئی ہیں۔ رحیم یار خان میں پاک فوج کی جانب سے 2 ہزار افراد کو تیار کھانا اور 21 سو سے زائد مویشیوں کو چارہ فراہم کیا جارہا ہے۔ ترجمان کے مطابق لاہور سے ایک کروڑ 75 لاکھ روپے مالیت کی 470 ٹن امدادی اشیا سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں میں بھجوائی گئی ہیں۔ مظفر گڑھ، رحیم یار خان، لیہ اور راجن پور میں قائم سو سے زائد کیمپس میں ہزاروں افراد کو تیار کھانے کی فراہمی جاری ہے۔ کالام میں متاثرین سیلاب کو ہیلی کاپٹرزکے ذریعے 273 ٹن راشن پہنچا دیا گیا ہے۔ نوشہرہ کلاں اور پبی میں 3 ٹن خشک راشن اور 23 سو پانی کی بوتلیں تقسیم کی گئیں۔ گلگت بلتستان میں سی ون تھرٹی کی دو پروازوں کے ذریعے 6 ہزار لیٹر ڈیزل پہنچا دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایف ڈبلیو او نے کلیال نالہ، دوباری نالہ اور بشام کے پل مرمت کرکے قراقرم ہائی وے کو جزوی طور پر کھول دیا ہے۔  صدر زرداری کی وزیرا علیٰ اورگورنر گلگت بلتستان سے ملاقات  صدر آصف علی زرداری نے ہدایات دی ہیں کہ گلگت بلتستان سمیت ملک بھرمیں متاثرین سیلاب کی امداد اور بحالی کیلئے تمام درکار وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ایوان صدر اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی گورنر ڈاکٹر شمع خالد اور وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے صدر سے ملاقات کی اور انہیں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کاروائیوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر صدر نے کہا کہ وفاقی حکومت متاثرین کی بحالی اور تباہ گھروں کی تعمیر نو میں ہر ممکن تعاون کرے گی، صدر نے کہا کہ انہوں نے چین کی حکومت سے بھی گلگت بلتستان میں فوری امداد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔   کوئٹہ :ہندو اور کرسچن برادری کے متاثرین سیلاب کی حکومت سے مدد کی اپیل   کوئٹہ کے چرچ اور مندروں میں ہندو اور کرسچن برادری سے تعلق رکھنے والے سیلاب متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہیں ۔مسجد روڈ ، زرغون روڈ اور شہر کے دیگر علاقوں میں کئی چھوٹے بڑے چرچ اور مندر ہیں جہاں ہندو اور کرسچن کمیونٹی آباد ہے ۔ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے جہاں مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے کوئٹہ کا رخ کیا وہیں کئ ہندو اور کرسچن کمیونٹی کے افرادنے شہر کے مندروں اور چرچوں میں پناہ لی ہے۔ متاثرین میں خواتین ، بچوں اور بزرگ بھی شامل ہیں ۔ ۔متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کی کمیونٹی کے لوگوں نے ان کے لئے کھانے ، پینے اور رہائش کے انتظامات اپنی مدد آپ کے تحت کئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے گھروں سے بے سرو سامانی کی حالت میں ٹرک والوں کو مہنگا کرایہ دے کر یہاں تک پہنچے ہیں ۔انھوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کی بھی امداد کی جائے۔   ڈیرہ مراد جمالی : ادویہ کی کمی دو بچوں سمیت تین سیلاب متاثرین جاں بحق  نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں پناہ لینے والے سیلاب متاثرین میں سے خوراک اور ادویات نہ ملنے کے باعث دو بچوں سمیت تین افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ادھرڈیرہ الہ یار اور دیگر علاقوں میں سیلابی پانی نے بلند ہونے کے ساتھ ساتھ تعفن کا اخراج کرنا شروع ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈیرہ الہ یار کے سیلاب متاثرین پناہ لینے کیلئے مختلف شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں جہاں انہیں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں پناہ لینے والے متاثرہ خاندانوں میں حکومتی سطح پر کسی قسم سہولت فراہم نہیں کی گئی۔دوسری جانب سیلاب زدہ علاقے ڈیرہ الہ یار کا ملک بھر سے زمینی راستہ آج تیسرے روز بھی منقطع ہے۔ جہاں پھنسے ہوئے متاثرین کے لئے خوراک اور ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں جمع ہونے والے سیلابی پانی کا رنگ بھی سیاہ ہوتا جارہا ہے اورپانی میں موجود سیکڑوں کی تعداد میں مرے ہوئے جانور کا تعفن پورے شہر سمیت بائی پاس تک پھیل گیا ہے اور یہاں موجود ہزاروں متاثرہ افراد بھی مختلف جلدی بیماریوں میں مبتلا ہوکرکھلے آسمان تلے بے یارو مدد گارمیدانوں میں پڑے ہیں۔  شاہ محمود قریشی: پاکستان نے سیلاب زدگان کیلئے ہندوستان کی امداد قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے / من موہن سنگھ نے پاکستان کو 5 ملین ڈالرز امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہندوستانی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد کی پیشکش قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی جانب سے اس مشکل وقت میں پاکستانی شہریوں کی امداد کا اقدام حوصلہ افزا ہے اور پاکستان سیلاب زدگان کے لیے امداد پر ہندوستان کا شکرگزار ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز ہندوستانی وزیراعظم من موہن سنگھ نے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو فون کر کے سیلاب سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو 5 ملین ڈالرز امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ بان کی مون: پاکستان میں آنیوالا سیلاب عالمی یکجہتی کے لئے سب سے بڑی آزمائش ہے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی موننے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگ عالمی برادری کی مدد کے منتظر ہیں اور پاکستان میں آنیوالا سیلاب عالمی یکجہتی کے لئے سب سے بڑی آزمائش ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصو صی اجلاس شروع ہوا تو اس میں پاکستان میں سیلاب سے ہونیوالے تباہ کن نقصانات کی وڈیو دکھائی گئی۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا دنیا میں ایسی تباہی کم ہی دیکھی گئی ہے، ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے، ہزاروں دیہات اجڑ چکے ہیں، سڑکیں، مکانات، پل تباہ ہوچکے ہیں، ڈیڑھ سے دو کروڑ سیلاب زدگان ہنگامی امداد کے منتظر ہیں۔ اس موقع پر پاکستانی وزیر خا رجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان سیلاب کی ہولناک تباہی کا شکار ہے جس پر قابو پانا بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہر دسواں پاکستانی سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔سیلاب کی صورت حال پراوآئی سی اجلاس جدہ میں  پاکستان میں سیلابی صورت حال پر اسلامی سربراہ کانفرنس کا اجلاس آج ہورہا ہے۔جدہ میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے ہیڈکوارٹر میں ہونیوالے اجلاس میں رکن ممالک کے مندوبین شرکت کریں گے ، اجلاس میں پاکستان میں سیلاب کی صورت حال پر ایک لائحہ عمل طے کیا جائے گااورسیلاب زدگان کی مدد کے لیے رکن ممالک کے نمائندوں سے اپیل کی جائے گی کہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110